اور کے بہترین اور معیاری مضامین اور جدید سائنس اور ایجادات کے لیے ہمارے ویب سائٹ پر آئیں۔ www.pakjob.net

Latest

Monday, November 8, 2021

عمرانیات بطور ایک سائنس

عمرانیات بطور ایک سائنس

وہ علم جس میں سائنسی طریقہ کار کی پیروی کی جائے سائنس کہلا سکتا ہے۔ سائنس علم ہر لحاظ سے قابل اعتبار ہوتا ہے۔ عمرانیات اس پر پوری اترتی ہے۔ عمرانی تحقیق میں خاندان، گروہی کردار، معاشرتی تغیر، معاشرتی درجہ بندی اور معاشرتی اداروں وغیرہ جیسے بے شمار موضوعات شامل ہیں۔ اگر چہ یہ تخقیقات زمان و مکان کے لحاظ سے پابند ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کے تعین کردہ قوانین ہمارے لیے رہنمائی دیتے ہیں۔

سائنس کا تعلق بار بار رونما ہونے والے واقعات سے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معاشرتی تعلقات میں افراد و اقوام کے تعلقات، رشتہ داروں اور اولاد کے درمیان، صاحب اختیار اور ماتحتوں کے درمیان، شاگردوں اور استادوں کے درمیان، معاشرتی زندگی کے دوسرے پہلووں میں اور روزمرہ کے واقعات بار بار ظہور پذیر ہوتے ہیں۔






عمرانی تحقیقات کی بناء پر ہم کئی معاشرتی مظاہر کے بارے میں پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ بے راہ روی کے اسباب پر تحقیق کی بنیاد پر ہم بچوں میں بے راہ روی کے محرکات کی پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ 


اسی طرح مختلف شادیوں اور زوجین کی عمروں کا تناسب معلوم کرکے ایک ماہر عمرانیات بتا سکتا ہے۔ کہ ہر عمر کے گروہ میں شادیوں کا کتنا تناسب ناکام یا کامیاب رہے گا۔


آبادی میں پیدائش و اموات کے رجحانات کا تجربہ کرکے مستقبل کی آبادی میں اضافے کی صحیح پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ پیش گوئی بھی کی جا سکتی ہے کہ بچوں والے والدین میں طلاق کی شرح بغیر بچوں والے شادی شدہ جوڑوں کی نسبت کم ہوگی۔ 


عمرانیات کی تجربہ گاہ

طبعی علوم کی تجربہ گاہوں میں مثالی حالات پیدا کرکے مثالی نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ جبکہ عمرانیات کے مخصوص نفس مضمون کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل ہے۔ معاشرتی گروہوں اور معاشرتی تعلقات پر تحقیقات کے لیے ہم انسانوں کو تجربہ گاہوں میں کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ناممکن  ہے۔ لیکن تجربہ گاہوں کی رویوں کو ایک ماہر عمرانیات ضرور اپناتا ہے۔ ماہر عمرانیات کی تجربہ گاہ تو پورا معاشرہ ہے اور مشاہدہ اس کا اہم ترین آلہ مشق ہے۔ 


سائنسی تحقیق کا ایک اور اہم معیار اس کا منظم ہوتا ہے۔ عمرانیات ایک نئی سائنس ضرور ہے لیکن اس کا علم کافی حد تک منظم صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ماہر عمرانیات بھی ہر سائنسدان کی مانند غیر جانبداری سے کام لے کر معروضی ہونے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اس میں اس کی پسند اور ذاتی تعصبات کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔  لیکن باوجود پوری احتیاط کے اگر اس کی تحقیقات میں جھول کا شک ہو تو وہ قابل معافی ہے۔ کیونکہ جانداروں پر کیے گئے تجربات کو دہرایا نہیں جا سکتا۔ جبکہ دوسری نامیاتی اشیاء کی تحقیق میں یہ سہولت موجود رہتی ہے۔ 


اسی طرح عمرانیات میں بے شمار عوامل کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ جبکہ فطری علوم میں نسبتاً زیادہ سادہ تجرباتی وظائف ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اس لیے عمرانیات کی اپنی سائنسی مشکلات بھی ہیں۔ جو بعض اوقات بار بار وقوع پذیر ہونے والے کے بارے میں قوانین وضع کرنے اور پیش گوئی کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔

No comments:

Post a Comment